Posted on Leave a comment

Urdu Novel Fikar

Urdu Novel Fikar

This urdu romance novel fikar include short 125 episode

Urdu novel fikar
Fikar novel

فکر

قسط نمبر : 1

سماب کل تم یونیورسٹی کیوں نہیں آئی ، نائمہ میری طبیعت کل تھوڑی سی خراب تھی کیوں کیا ہوا تھا بس سر میں تھوڑا سا درد ہو رہا تھا ، اچھا ، تو کیا پھر کوئی دوائی لی تھی ،ٹھیک ہونے کے لئے ، ہاں گھر میں پڑی ہوئی تھی وہ ہی لے لی ، اچھا اب تو درد نہیں ہے نا ، تو چلو پھر کلاس اٹینڈ کریں ، ہاں چلو ،

نائمہ اور سماب کلاس کی طرف چل

پڑتیں ہیں ، ابھی آدھے راستے میں ہوتی ہیں کہ پیچھے سے آ واز آ تی ہے ،

نائمہ ، نائمہ ،، ،، سنو رک جا ؤ ،،،

دونوں وہیں رک جاتیں ہیں سماب پوچھتی ہیں یہ کون ہے ،

نائمہ بتاتی ہے یہ رمیز ہیں کل ہی ملاقات ہوئی ، اور دوستی ہو گئی ، وہ ہم سے سینئر ہے اور گریجوایٹ (پارٹ ٹو) میں ہے,

رمیز نائمہ کے قریب آتا ہے ، ہائے نائمہ کیا حال ہے ، میں اچھی ہوں نائمہ بھی پوچھتی ہے تمہارا کیا حال ہے رمیز سماب کی طرف دیکھتے ہوئے ، میں بھی اچھا ہوں ، اچھا رمیز آ واز کیوں دی مجھے رکنے کے لیئے ، رمیز بولتا ہے تم نے مجھے کل نوٹس لانے کا کہا تھا ، میں

لے آ یا ہوں یہ لو ، او سو سویٹ آ ف یو رمیز ، ٹھینکس آ لاٹ ، رمیز نائمہ کو بتاتا ہے کہ ان نوٹس سے پیپرز کی تیاری کر لینا تم بآسانی پاس ہو جاؤ گی ، سماب جو کہ کافی دیر سے نائمہ اور رمیز کی باتیں سن رہی ہوتی ہے اب

بولتی ہے چلو نائمہ ، نائمہ بولتی ہے یار سماب رمیز کا شکریہ تو ادا کرنے دو مجھے ، سماب کہتی ہے اچھا میں کلاس روم کی طرف جا رہی ہوں ، تم خود ہی آ جانا شکریہ ادا کر کے اور لمبی    لمبی چھوڑ کے

اچھا اچھا ناراض نہ ہو میں بھی ساتھ میں چلتی ہوں ، اوکے بائے رمیز ، پھر ملیں گے ابھی کلاس لیکچر کے لئے دیر ہو رہی ہیں ، سماب نائمہ کا بازو پکڑتے ہوئے چلو نائمہ ، تمہاری باتیں تو اس لڑکے سے ختم ہی نہیں ہو رہی تھی ، نائمہ کہتی ہے ارے سما ب تم کیا جانو کتنا خوبصورت اور ڈیشنگ پرسنلٹی کا رمیز ہے لڑکیا ں تو بات کرنے کے لیئے اس پر مرتی ہیں تم بھی کبھی غور کر لیا کرو ، سماب کہتی ہے نائمہ لڑکوں کو غور کر نے کے لیئے تم ہی ایک کافی ہو ، میری توبہ ، میرے لئے تو صرف شمیر ہی کافی ہے ، ان  سب سے ، میں یونیورسٹی صرف پڑھنے کے لئےآ تی ہوں ، یہ فضول کی دوستیاں کرنے نہیں ،

او سماب اب ایسا ویسا نہیں کہو ں گی اپنا موڈ خراب مت کرو ، باتیں کرتے کرتے اتنے دیر تک سماب اور نائمہ کلاس روم میں پہنچ جاتی ہیں اور اپنی اپنی

سیٹوں پر بیٹھ جاتی ہیں ایک منٹ بعد کلاس کا لیکچر دینے کے لیے سر اویس بھی آ پہنچتے ہیں اسلام علیکم سر واعلیکم سلام کلاس تو کیا آپ کو پتہ ہے کہ آج ہم کس موضوع پر بحث کریں گے جی سر مہنگائی کے موضوع پر بحث کریں گے جی ہاں بالکل صحیح کہا آپ سب نے ، تو چلئیے شروع کر تے ہیں سر وائڈ بورڈ پر لکھتے ہوئے مہنگائی کیا ہے ، مہنگائی کیوں آتی ہے ، نواز اور نواب دونوں دوستوں کو اچانک زور سے ہنسی آ جاتی ہے اور روکنے کے باوجود دونوں دوستوں سے ہنسی رکتی نہیں اور سر اویس کے کانوں تک ان کی آواز پہنچ جاتی ہے سر اویس جو کہ وائٹ بورڈ پر لکھ رہے ہوتے ہیں قہقہے کی آواز سن کر غصے سے بولتے ہیں یہ لیکچر کے دوران کس نے قہقہہ لگایا ، کس نے ایسی گھٹیا حرکت کی ، کون ہے وہ ، ساری کلاس کے سٹوڈنٹس خاموش رہے سر نے پھر پوچھا غصے سے تو ایک سٹوڈنٹ کھڑا ہوگیا اس دوران وہ سٹوڈنٹ کوئی اور نہیں نواب تھا جو اچانک اپنی سیٹ سے کھڑا ہو گیا  اوہو اچھا اچھا نواب صاحب آپ کو بڑی ہنسی آرہی تھی کیا آپ مجھے بتانا پسند کریں گے کہ آپ کو ہنسی کیوں آئی ، اور وہ بھی میرے لیکچر کے دوران ، نواب پہلے تو خاموش رہا پھر بولا سر آپ مہنگائی کے موضوع پر بحث کر رہے ہیں اور عوام مہنگائی کو پریکٹیکلی برداشت کر رہی ہے ، سر اویس بولے نواب بات کو گھماؤ پھراؤ نہیں اور عوام کی طرف نہ لے کر جاؤ اپنی بات کرو ، کیوں ہنس رہے تھے ، اور اتنی زور کا قہقہ کیوں لگایا ، سر وہ آپ میری انسلٹ تو نہیں کریں گے نہ ،،

سر اویس بولے اگر انسلٹ کرنے والی بات ہوئی تو ضرور کروں گا ،

اچھا سر وہ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ جہاں پر ابھی کھڑے ہیں وہاں پر ابھی مجھ سے کلاس میں آتے ہوئے ایلفی کی بوتل گر گئی اور ہنسی مجھے اس لئے آئی ہے کہ آپ کا شوز ابھی اسی جگہ پر جما ہوا ہے ،

سراویس نے کہا ،  کیا مطلب اور آگے بڑھنے کی کوشش کی تو واقعہ شوز نہ ہلا

پوری کلاس کے سٹوڈنٹس زور زور سے ہنسنے لگے اور نواب بھی کھل کر ہنس پڑا ، سر اویس بولے کیپ کوائٹ خاموش ہو جاؤ سارے،

پوری کلاس کے سٹوڈنٹس خاموش ہو گئے اتنے میں سر اویس نے زمین سے چمٹے ہوئے شوز سے تو پاؤں نکال لیا لیکن شوز ابھی تک نا ہلا ، سر کو اچانک ایک بات سمجھ آئی ، انہوں نے دوسرے شوز سے بھی پاؤں نکال لیا اور سیدھا نواب پر نشانہ لگایا اس سے پہلے کہ وہ جوتا نواب کو لگتا نواب وہاں سے بھاگ گیا ، اور پوری کلاس کے سٹوڈنٹس زور زور سے ہنسنے لگے

اور کلاس لیکچر کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے سٹوڈنٹس کلاس روم سے جانے لگے ، پھر سر اویس نے میڈ کو بلوایا اور وہاں سے کلاس روم صاف کرنے کا کہا ، جیسے ہی سر اویس کلاس روم سے باہر نکلے ان کے پاؤں میں جوتے نہ دیکھ کر سارے سٹوڈنٹس ہنسنے لگ پڑے ، سر اویس نے اسے اپنی ذلت سمجھتے ہوئے سیدھا وائس

چانسلر کے پاس گئے

اور کہاں پرنسپل صاحب مے آ ئی کم ان

، اندر سے آ واز آ ئی ، ییس ، کم ان

سر اویس کے روم میں داخل ہوتے ہی پرنسپل صاحب کو ہنسی آ گئی

اور بولے سر اویس یہ کیا ہوا ہے آپ کے ساتھ آج صبح آ پ ایسے ہی آ گئے تھے یا آپ کو شوز پہننا یاد بھول گئے تھے

سر اویس بولے نہیں سر یہ گریجویٹ ( پارٹ ون ) کے نواب کی وجہ سے یہ سب میرے ساتھ ہوا اور اب سارے

سٹوڈنٹس مجھ پر ہنس رہے ہیں

پرنسپل صاحب نے کہا ہاں بات بھی بنتی ہیں ہنسنے والی ہی ہے پرنسپل صاحب پھر ہنس پڑے

سر آ پ بھی

اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی ہے پرنسپل صاحب کال وصول کرتے ہیں اور سر اویس کو کہتے ہیں ہیں کہ آپ یہاں ہی بیٹھیں اور میرے آنے تک یہ سیٹ سنبھالیں اوکے سر گڈ بائی آپ بے فکر ہو کر جائیں

اتنے میں چھٹی کا وقت ہو جاتا ہے اور سارے سٹوڈنٹس گھر جانے لگتے ہیں اور سر اویس بھی اپنی کار نکال کر گھر کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں راستے میں ان کی گاڑی کو ٹکر لگ جاتی ہے اور وہ گاڑی سے باہر نکل کر اس گاڑی والے کو سنانے لگتے ہیں ، ڈرائیور جلدی سے گاڑی سے باہر نکل

آتاہے

قسط نمبر 2

اور سر اویس کو گاڑی ٹھیک کروانے کا معاوضہ دینے لگتا ہے کہ بھائی صاحب غلطی ہو گئی معاف کر دیجئے اور ان پیسوں سے اپنی گاڑی ٹھیک کروا لیجئے گا لیکن ایسی کی تیسی سر اویس کو تو اور غصہ آ گیا اور کہنے لگے گاڑی چلانی نہیں آتی تو چلاتے کیوں ہو کیا سڑک تیرے دادا کی ہے اور گاڑی تیرے باپ کی ہے اتنے میں سچ مچ ایک خوبرو شکل کا داداگیر نوجوان اس گاڑی سے باہر نکل آتا ہے

اور ڈرائیور سے پوچھتا ہے کہ کیا مسئلہ ہے اور گاڑی اتنی دیر سے کیوں روکی ہوئی ہے

ڈرائیور بتاتا ہے کہ سر ان صاحب کی گاڑی کو ہماری گاڑی سے ٹکر لگ گئی ہے اس لئے گاڑی روکی ہوئی ہے اور یہ

صاحب مسلسل غصہ کر رہے ہیں

گاڑی کا مالک خوبصورت نوجوان بولتا ہے ٹکر ہی لگی نا چل ان کو گاڑی ٹھیک

، کروانے کے لیے پیسے دے اور فارغ کر

یہ سن کر سر اویس اور آ گ بگولا ہو ہے اور گاڑی والے خوبرو نوجوان کو دو چار اور سنا دی

یہ سب کچھ دادا گیری نوجوان کی برداشت سے باہر ہو گیا اس نے اب نا آؤ دیکھا نا تاؤ ، وہی اپنی دادا گیری شروع کر دی سیدھا پستول نکالا اور سر اویس کی ٹانگ میں گولی مار دی سر اویس کو خون آنے لگا اور وہ زمین پر گر گئے اب سر اویس ڈرنے والوں میں سے تھے نہیں اور اسے گلی کا گھنڈا ، بدمعاش اور بہت برا بھلا کہنے لگے یہ سب اب

اس نوجوان کی سمجھ برداشت سے یہ سب باہر ہوگیا اس نے سر اویس کو ایک منٹ کے لئے چھوڑا اپنی جیب سے سگریٹ نکالا منہ میں رکھا اب ماچس نکالی سگریٹ سلگایا اور ماچس کی جلتی ہوئی تیلی سر اویس کی گاڑی میں پھینک دی ،

تیلی پٹرول کے قریب جانے کی دیر تھی کہ دھماکے سے گاڑی جل بھن گئی اور پروفیسر اویس سکتے میں اپنی گاڑی کو دیکھتے ہی رہ گئے

سر اویس اس آدمی کو درحقیقت جانتے ہی نہیں تھے اگر جانتے ہو تے تو اس کے پاس سے بھی نہ گزرتے اور نا اس سے الجھتے لیکن جو ہونا ہوتا ہے وہ تو ہو کر ہی رہتا ہے اس کی کسی کو کیا خبر ، دوش قسمت کو کیوں دیتے ہو ،

اب سر اویس کو چونکہ ٹانگ میں گولی لگی ہوئی ہے لیکن پھر بھی انہوں نے ہمت کر کے آ گے بڑھ کے اس نوجوان کو گلے کی کالر سے پکڑ لیا اور کہا میں تجھے چھوڑوں گا نہیں ، تو نے اویسں کو للکارا ہے، تونے اویس کی کار جلائی ہے ، میں تجھے جیل کراونگا تجھ جیسے گھنڈ ے سے مجھے اچھی طرح نپٹنا آتا ہے اب میں جا رہا ہوں اب میں پو لیس اسٹیشن تیری رپورٹ درج کروانے جا رہا ہوں وہ تجھے جیل کریں گے تجھے سزا ضرور دیں گے ، گلی کا کتا کہے گا جو ہر کسی کو کاٹتا رہتا ہے ہے تو گھنڈا ، بدمعاش ، لٹیرا ، کمینہ بغیر ت ہے میں تجھے چھوڑوں گا نہیں ، سر اویس کے منہ میں جو آ رہا تھا بولتے جا رہے تھے دادا گیری نوجوان سر اویس کے اور قریب آ گیا اور کہا باتیں تو بہت کرتا ہے اپنی حالت دیکھ ، چلنے کے قابل ہے نہیں اور جاتا ہے تھانے تو جائے گا پولیس اسٹیشن میںرے خلاف رپورٹ درج کروائے گا پولیس حرامی میرا دیا پیسہ کھا رہے ہیں میرے خلاف وہ جا ہی نہیں سکتے ،

سر اویس بولے پولیس ہماری عوام کی ہے وہ تجھ جیسے گھنڈے اور کمینے کے خلاف ضرور میری آ واز سنیں گے ،

اس نوجوان نے ایک زور کا قہقہہ لگایا اور غصے سے ڈرائیور سے کہا کہ اسے ڈگی میں ڈالو

ڈرائیور نے ایسا ہی کیا اور سر اویس کو گھیسٹے ہوئے باس کی گاڑی کی ڈگی

میںں ڈال دیا اور گاڑی چلانی شروع کر دی

تھوڑی دیر بعد گاڑی دادا گیری نوجوان کے بنگلے کے باہر پہنچ گئی ڈرائیور گاڑی سے باہر نکلا اور باس کے لیئے گاڑی کا دروازہ کھولا باس گاڑی سے جیسے ہی باہر نکلا سامنے سے ایک گارڈ بھاگتا ہوا باس کے قریب آ یا اور کہا سر وہ نائمہ میڈم اندر آ ئیں ہوئی ہیں باس نے کہا کیوں نائمہ نے کیا بتایا کیوں آ ئیں ہے وہ یقیناً پیسے لینے آ ئی ہو گی اچھا میں دیکھ لیتا ہوں اسے

باس نےچلتے ہوئے ایک گارڈ کو آ واز دے کر کہا سنو اس پاگل آ دمی کو ڈگی سے باہر نکالو کہیں مر ہی نا جائے اور کسی ڈاکٹر کو بلوا کر اسکی ٹانگ میں سے گولی نکلوا لینا لیکن اسے بھاگنےمت دینا وہیں کھوٹری میں ڈال دینا

3 قسط نمبر

جی باس جیسا آ پ کہیں

باس اب چلتے ہوئے سوچتے جا رہا تھا یہ نائمہ آ ج کیوں آ گئی ہے آ خر کیا بکواس اسے اب کرنی ہے چلو دیکھ لیتا ہوں اسے بھی

باس اندر کا دروازہ جیسے ہی کھولتا ہے گیلری میں سیدھا نائمہ بیٹھی ملی آ کاش کہاں رہ گئے تھے تم میں تمہارا اتنی دیر سے انتظار کر رہی ہوں اب میں جانے والی ہی تھی کہ بس تم آ گئے

آ کاش نائمہ کے قریب آ کر اس کے کندھوں پر دونوں ہاتھوں رکھ کر کہتا ہے ارے میری جان نائمہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم آ رہی ہو تو میں آ ج میٹنگ کینسل کر دیتا اور تمہارا انتظار کرتا دونوں ساتھ میں کینڈل لائٹ ڈنر کرتے آ کاش اب کندھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے ویسے آ ہی گئی تھی تو مجھے کال کر کے بتا دیتی نہیں تو میرے آ فس آ جاتی

نائمہ کہتی ہے آ کاش تم مجھ سے کال کرنے کی بات نہ ہی کرو تو بہتر ہے آ کاش کہتا ہے کیوں نہ کروں پہلے اپنا موبائل نکالو اور دیکھو کہ میں نے تمہیں کتنی بار کالز کیں لیکن مجال ہے کہ تم نے ایک بھی کال ریسیو کی ہو آ کاش اپنا موبائل فون چیک کرتا ہے اور کہتا ہے نائمہ واقع تمہاری تو اتنی زیادہ مسڈ کالز آ ئیں ہوئی ہیں میرا فون سائلنٹ پر تھا اس لئے مجھے پتہ نہیں چلا اچھا یار سوری ویسے بتاؤ کس کام سے تم میرے پاس آ ئی ہو میں تم سے ملنے آئی ہوں اوہ ریلی

آکاش اپنا کوٹ اتار کر سوفے پر پھینک دیتا ہے آ رام سے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اچھا نائمہ آج میرا کسی سے بات کرنے کا موڈ نہیں ہے سیدھی بات کرو کتنے پیسے چاہیئے نائمہ کہتی ہے کہ مجھے پیسے نہیں چاہیئے بس مجھے چار دن کے لئے وی آئی پی کپل روم بکنگ اور ایک فلائٹ کا ٹکٹ چاہیئے اچھا ٹھیک ہے میں ٹکٹ کے لئے پیسے دے دیتا ہوں اپنے کوٹ سے چیک بک نکال کر چیک فل کر دیتا ہے یہ لو نائمہ تمہارے ٹکٹ کے لیئے پیسے اپنے لئے اچھی سی شاپنگ بھی کر لینا ویسے یہ تو بتاؤ کس ملک سیر کرنے کا ارادہ ہے کیا کوئی اسپیشل کام ہے کیو ں جانا ہے اور وہ بھی کپل روم بکنگ نائمہ کہتی ہے میں لندن جا رہی ہوں اچھا ٹھیک ہے وہاں جانا خوب شاپنگ کرنا موج مستی کرنا نائمہ جواب دیتی ہے کہ میں وہاں کوئی موج مستی کرنے نہیں جا رہی اپنے پیار سے ملنے جا رہی ہوں

آ کاش یکدم کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کیا تم پھر اس کمینے کے پاس جانا چاہتی ہو اس کے چنگل سے میں نے تمہیں کتنی مشکل سے باہر نکالا ہے نہیں تم وہاں نہیں جاؤ گی اگر کسی اور جگہ کے سیر کرنے کے لئے ٹکٹ بکنگ کروانی ہے تو میں ابھی کروا دیتا ہوں ورنہ میں یہ چیک پھاڑ دیتا ہوں

نائمہ آ کاش کے پاؤں پڑتے ہوئےاور روتے ہوئے پلیز یہ چیک مت پھاڑو مجھے لندن کے ٹکٹ کروا دو میں اس سے صرف ایک بار ملنا چاہتی ہوں پھر کبھی نہیں ملوں گی پام اب بدل گیا ہے وہ بھی مجھ سے معافی مانگ رہا تھا آ کاش کہتا ہے نہیں وہ ایک گھٹیا شخص ہے تم اب اس سے کبھی نہیں ملوں گی اور اب جاؤ اپنے گھر تمہاری طبیعت آ ج شاید ٹھیک نہیں ہے جاؤ اور جا کر آ رام کرو

باہر سے ایک نوکر اندر داخل ہوتا ہے اور کہتا ہے باس وہ آ دمی بہت شور کر رہا ہے کونسا آدمی سر جس کو آ پ ابھی ڈگی میں لے کر آئے تھے کیوں اس کی ٹانگ سے گولی نکلوا لی جی باس گولی نکلوا لی اور ابھی ڈاکٹر کو چھوڑ کر آ یا ہوں تو جاؤ مجھ سے کیا پوچھنے آ ئے ہو نیند کی دو چار گولیاں دو اسے اور میرے پاس اب مت آنا وہ ملازم چلا جاتا ہے

آکاش نائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے جو کہ ابھی تک رو رہی تھی ڈرائیور کو بلواتا ہے ڈرائیور فوراً اندر آ جاتا ہے اور کہتا ہے جی باس آکاش کہتا ہے جاؤ نائمہ میڈم کو ان کے گھر چھوڑ کر آؤ ان کی طبیعت آ ج خراب ہے نائمہ کہتی ہے کوئی ضرورت نہیں میں خود ہی چلی جاؤ گی آ کاش ڈرائیور کو زبردستی نائمہ کو گھر تک چھوڑ نے کا کہتا ہے کہ نائمہ کی طبیعت خراب ہے ڈرائیور نائمہ کو گھر کے باہر چھوڑ کر گھر واپس آ جاتا ہے

نائمہ گھر پہنچتی ہے اور آ ئینے کے سامنے بیٹھ کر رونے لگ جاتی ہے اتنے میں موبائل فون کی رنگ بجتی ہے نائمہ نام دیکھے بغیر موبائل فون اٹھاتی ہے ہیلو کون ارے نائمہ کیوں کیا ہوا میں سماب بول رہی ہوں اتنی دیر کیوں لگائی فون اٹھانے میں نائمہ کہتی ہے ہاں سماب بولو کیا ہوا ہے سماب کہتی ہے یہ تمہاری آ واز کو کیا ہوا ہے ، کیا تم رو رہی ہو ، بولو نہ نائمہ کیا بات ہے کیوں رو رہی ہو نائمہ فون کاٹ دیتی ہے

سماب سوچنے لگ پڑتی ہے کہ کیا بات ہوئی ہے نائمہ صبح تو یونیورسٹی میں اتنی خوش لگ رہی تھی اب اچانک اسے کیا ہو گیا ہے سماب پوچھنے کے لئے پھر نائمہ کا فون نمبر ملاتی ہے لیکن یہ کیا نائمہ نے اپنا موبائل بند کیوں کر دیا ہے اتنے میں سماب کے کمرے میں خالہ داخل ہوتی ہیں کیوں سماب بیٹی اتنی پریشان نظر آ رہی ہو کیا ہوا ہے سماب کہتی ہے خالہ وہ نائمہ رو رہی تھی خالہ پوچھتی ہے کہ تمہیں اس کے رونے کا کیسے پتہ چلا سماب کہتی ہے کہ خالہ میں نے ابھی اسے کال کی تھی اور مجھے اس کے رونے کی

آواز آ ئی میں نے اس سے پوچھا کیا ہوا لیکن اس نے مجھے بتانے سے پہلے ہی کال کٹ کر دی اور اب اس کا نمبر مسلسل بند جا رہا ہے اس لئے مجھے اس کی فکر ہو رہی ہے خالہ بولتی ہے سماب بیٹی اس کے گھر کا کوئی مسئلہ ہو گا اس لئے وہ رو رہی ہو گی نہیں خالہ اس کے گھر کا کیا مسئلہ ہو سکتا ہے وہ اکیلی رہتی ہے اپنا گھر ہے اور بہت امیر ہے اسے کیا مسئلہ ہو گا وہ سب کچھ خود حل کر لیتی ہے اسے بھلا ایسا کیا ہوا جو وہ مجھ سے چھپا رہی ہے اور رو رہی ہے سماب بیٹی ہر مسئلہ کا حل پیسے سے نہیں خریدا جا سکتا کچھ معاملات دل کے اور رشتوں کے بھی ہوتے ہیں لیکن خالہ،،،، ا

سماب بس اب نائمہ کی فکر مت کرو اور چپ کر کے سو جاؤ صبح یونیورسٹی بھی جانا ہوتا ہے اور اتنا پریشان مت ہوا کرو بیٹی ، اب میں جاتی ہوں شمیر بیٹے کے پاس پتہ نہیں وہ کیا کر رہا ہے وہ بھی تمہاری طرح کسی کے بارے میں سوچ تو نہیں رہا دونوں بیوقوف کہیں گے اپنا کم سوچتے ہیں اور دوسروں کا زیادہ،،،ا

شمیر بیٹا کیا کر رہے ہو یہ دودھ کا گلاس رکھا ہوا ہے پی لینا اور سو جانا اچھا امی بس یہ تھوڑا سا آ فس کا کام رہ گیا ہےایک فائل ہی رہتی ہے بس میں کام ختم کر کے پی لیتا ہوں

قسط نمبر 4

تھوڑی دیر کے بعد شمیر اپنا کام ختم کر کے سو جاتا ہےدوسری طرف سماب بھی اپنے کمرے میں سو رہی ہوتی ہے آدھی رات دو بجے کا وقت ہوتا ہے کہ خالہ کو کسی کے چیخنے کی آواز آتی ہے خالہ اپنے بیڈ پر اٹھ کر بیٹھ جاتی ہے اور غور سے کان لگا کر سننے لگتی ہے او میرے خدایا یہ تو سماب کے چیخنے کی آوازیں آ رہی ہیں

خالہ شمیر کے کمرے کا دروازہ زور سے کھٹکھٹا کر کہتی ہے جلدی اٹھ شمیر یہ مجھے سماب کے چیخنے کی آوازیں آ رہی ہیں پتہ نہیں اسے کیا ہوا ہے شمیر جلدی سے اٹھ کر آ نکھیں ملتے ملتے اپنی امی کے ساتھ سماب کے کمرے کی طرف چل پڑتا ہے کیا ہوا سماب بیٹی تم کیوں چیخ رہی ہو شمیر کی ماں پانی لانے کا کہتی ہے شمیر جلدی سے پاس ہی رکھے ہوئے میز سے پانی کا گلاس بھر کر دیتا ہے سماب بیٹا یہ لو پانی ، یہ لو بس تھوڑا سا پی لو اور اب آ رام سے بتاؤ کہ کیا ہوا تم اتنی کیوں چیخ رہی تھی

سماب کو پسینہ آ رہا تھا اور وہ اچانک بول پڑتی ہے خالہ وہ میں سو رہی تھی کہ مجھے خواب آ یا کہ تین نوجوان آ دمی میرے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور میں ان سے ڈر کر بھاگ رہی ہوں میرے آ گے جانے کا راستہ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ آ گے ایک بہت گہری ڈھلوان ہے اور میں ڈھلوان کے عین اوپر کھڑی ہوں اگر پاؤں پیچھے کروں گی تو نیچے گہری اونچائی سے گر جاؤ گی اور وہ تینوں آ دمی میرے قریب آ جاتے ہیں اور اپنی تلواریں نکال لیتے ہیں میں ڈر کے مارے زمین پر گر جاتی ہوں کہ اب وہ مجھے یقیناً مار دیں گے لیکن ان میں سے ایک آ دمی میرے آ گے کھڑا ہو کر ان دونوں کو تلوار کے تیز وار سے مار دیتا ہے اور میں یہ دیکھ کر وہی بے ہوش ہو جاتی ہوں اور میری آ نکھ کھل جاتی ہے شمیر مذاق اڑاتے ہوئے آڑے سماں تمہارے خواب میں وہ تیسرا آ دمی میں ہی ہوں گا جس نے ان دونوں کو مار گرا کر تمہیں بچا کر لے آ یا خالہ نے شمیر کی بےعزتی کرتے ہوئے کہا اسے اتنا برا خواب آ یا وہ رو رہی ہے اور تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے دفعہ ہو جاؤ اپنے کمرے میں شمیر اپنے کمرے میں سونے کے لئے چلا جاتا ہے ، چلو سماب بیٹی تم بھی سو جاؤ میں تمہارے پاس ہی سو رہی ہوں سماب کمبل کر کے سو جاتی ہے اور خالہ بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر خود بھی سو نے لگتی ہے

اب صبح ہو گئی ہے شمیر ورزش کر کے آ گیا ہے اب خالہ اٹھ کر ناشتہ بنانے لگتی ہے ادھر سماب بھی یونیورسٹی جانے کے لیے تیاری کر رہی ہے شمیر آفس جانے کے لئے تیار ہو رہا ہے خالہ کی آ واز آ تی ہے سماب شمیر دونوں آ ؤ ناشتہ کر و ، جی خالہ میں آ گئی یہ شمیر نہیں آ یا جاؤ بیٹا اسے بھی بلا لاؤ اور دونوں بیٹھ کر ناشتہ کرو جی خالہ میں ابھی بلا کر لاتی ہوں

سماب سیڑھیاں چڑھتے ہوئے شمیر کے کمرے میں پہنچ جاتی ہےاور کہتی ہے شمیر خالہ نے تمہیں کتنی آ وازیں دیں ہیں لیکن تم نے کوئی ایک نہیں سنی اب جلدی نیچے آ ؤ ،

شمیراپنی شرٹ کی کالر ٹھیک کرتے ہوئے کہتا ہے سماب رات کو کیا ہوا تھا تمہیں ، سماب کہتی ہے کچھ نہیں بس ایک برا خواب آ یا تھا شمیر سماب کے پاس آ کر اسے کہتا ہے کہ شکر کرو برا خواب ہی آ یا تھا اگر اصل میں ایسا ہوتا تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا مجھ سے ، سماب پوچھتی ہے ویسے شمیر اگر اصل میں یہ سب ہوتا تو تم کیا کرتے شمیر نے ایک منٹ کے لئے سماب کو غور سے دیکھ کر کہا اگر اصل میں ایسا ہوتا تو میں تمہیں سب سے چھین لوں گا اور ان سب کا جینا محال کر دوں گا جو تمہیں مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا سماب پھر شمیرکو چھڑانے کے لئے کہتی ہے کہ اگر کسی نے سچ مچ ہی تم سے مجھے چھین لیا تو پھر کیا کرو گے شمیر نے کہا کہ میں تمہیں کسی کا ہونے ہی نہیں دوں گا ، سماب نے کہا کہ اتنا زیادہ پیار تم مجھ سے کرتے ہو شمیر نے کہا میں تمہیں کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا سماب نے ہنستے ہوئے کہا خالہ کے ساتھ بھی نہیں شمیر نے کہا وہ تو میری ماں ہیں ، سماب بولتی ہے اب بہت رومانس والی باتیں ہو گئی ہیں اب چلو نیچے آ ؤ ناشتہ کرو ، اچھا چلو شمیر اور سماب دونوں نیچے آ کر ناشتہ کرنے لگ پڑتے ہیں

آ ج آ ملیٹ بڑے مزے کا ہے کیا تم نے بنایا نہیں آ نٹی نے بنایا ہے ، ہاں تب ہی میں بھی کہوں کہ اتنا زیادہ اچھا آ ملیٹ تو میرے ماں ہی میرے لئے بناتی ہے تو کیا میں اچھا نہیں بناتی نہیں سماب تم بنا تو لیتی ہو آ ملیٹ لیکن وہ آ ملیٹ کم اور نمکلیٹ زیادہ لگ رہا ہوتا ہے کیا مطلب ، مطلب یہ کہ جب پچھلی بار تم نے آ ملیٹ بنانے کی ناکام سی کوشش کی تھی اس کوشش میں نمک کچھ زیادہ ڈال دیا تھا اور اس کا رنگ جلا دیا تھا یار سماب امی سے کچھ سیکھ ہی لیا کرو تمہیں شرٹ کا ایک بٹن تک لگانا نہیں آ تا اور آ ملیٹ بنانے چلی تھی میڈم ، سماب غصے سے بولی مجھے آ تا ہے اچھا تو تم نے پچھلی بار میری شرٹ کا جو بٹن لگایا تھا وہ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے، اب چلو ناشتہ کر لیا ہے تمہیں یونیورسٹی چھوڑ آ ؤ دونوں اٹھ پڑتے ہیں

شمیر باہر موٹر سائیکل نکال کر سٹارٹ کر تا ہے آ ؤ سماب پیچھے بیٹھو ، سماب دروازے سے باہر نکلتے ہوئے خالہ ہم دونوں جا رہے ہیں اندر سے آ پ دروازہ بند کر دیجئے خالہ بو لتی ہے اچھا بیٹا میں آ کر بند کر دیتی ہوں تم لوگ جاؤ

دونوں بائیک پر بیٹھ کر چل پڑتے ہیں شمیر آ ج چھٹی کے وقت مجھے یونیورسٹی سے لینے نہ آ نا مگر کیوں ، وہ آج نائمہ کے گھر جانا ہے اس کے کچھ نوٹس مکمل نہیں ہے لیکن سماب اس کے گھر جاؤ گی کیسے ، اس کی اپنی گاڑی ہے واپسی پر وہ مجھے گھر چھوڑ جائے گی ، ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا ، اچھا

لو تمہاری یونیورسٹی آ گئی سماب موٹر سائیکل سے اتر کر شمیر کو گڈ بائے کہہ کر یونیورسٹی کے اندر آ جاتی ہے سماب کا موبائل فون بجتا ہے سماب میں نائمہ بول رہی ہوں میں آ ج یونیورسٹی نہیں آ ؤ گی سماب کہتی ہے لیکن نائمہ ، نائمہ بات سننے سے پہلے ہی کال کاٹ دیتی ہے سماب کے دوبارا نائمہ کا نمبر ملانے پر نائمہ کا فون نمبر بند ملتا ہے سماب سوچتی ہے یہ نائمہ کو کیا ہوا اس نے کل بھی نمبر بند کر دیا تھا اور آ ج بھی آخر مسئلہ کیا ہے اسے ، اتنے میں نائمہ کا دوست رمیز کا گروپ پاس سے گزر تا ہے رمیز سماب کے پاس کھڑے ہو کر یار تم لوگ کلاس روم کی طرف جاؤ میں ابھی آتا ہوں ، رمیز سماب کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے ہائے کہتا ہے سماب اس کا جواب بغیر ہاتھ ملائے منہ سے ہی کہہ دیتی ہے رمیز اپنے بڑھے ہوئے ہاتھ کو پیچھے کھینچ لیتا ہے اور کہتا ہے آ ج آ پ اکیلی کیوں آ پ کی دوست نائمہ کدھر ہے سماب جواب دیتی ہے نائمہ کی طبیعت آ ج خراب تھی اس لیئے وہ آ ج نہیں آ ئیں کیوں کیا ہوا ہے اسے ، سماب کہتی ہے مجھے نہیں معلوم اچھا پھر تو نائمہ کی طبیعت پوچھنے آ ج جاؤ گا آ خر دوست ہے وہ میری ، سماب کہتی ہے جی اور مزید باتیں کرنے سے پہلے ہی کہہ دیتی ہے کہ مجھے کلاس کے لئے دیر ہو رہی ہے اور کلاس روم کی طرف چل پڑتی ہے

قسط نمبر 5

رمیز سوچتا ہے اور دل ہی دل میں کہتا ہے یہ لڑکی ہے کیا چیز مجھ جیسے امیر آ دمی کو کوئی لفٹ ہی نہیں دیتی میرے آگے پیچھے ہونے کے لیئے یونیورسٹی کی لڑکیاں مرتی ہیں اور ایک یہ ہے جس نے مجھے پہلی نظر میں دیوانہ بنا لیا ہے اور کوئی بات ہی نہیں کرتی خودسےباتیں کرتے ہوئے ، چلو رمیز کلاس کی طرف چلتے ہیں سماب جیسی بھی ہے مگر پیاری ہے کیوٹی گرل کبھی تو مجھ سے دوستی کر ہی لے گی

رمیز وہاں کھڑا سوچ ہی رہا ہوتا ہے کہ پیچھے سے سمند کی آواز آتی ہے رمیز آ ؤ نا تمہارا کب سے سارے دوست انتظار کر رہے ہیں ہاں میں کلاس کی طرف ہی آ رہا تھا نہیں یار کلاس کیطرف ہم لوگ گئے تھے لیکن پروفیسر جمیل صاحب آ ج نہیں آ ئے اس لیئے ہم سارے دوست کنٹین کی طرف چلے گئے وہیں گپ شپ لگاتے ہیں اور میں تمہیں بھی اس لیئے بلانے آ یا ہوں ویسے آ ج سر جمیل کے لیکچر سننے کا میرا موڈ نہیں تھا چلو اچھا ہوا نہیں آ ئے یار ویسے اندرکی بات ہے میرا بھی دل آج کچھ نیا سننے کا تھا

دونوں دوست باتیں کرتے کرتے کنٹین میں پہنچ جاتے ہیں رمیز اور سمند کرسی پر جیسے ہی بیٹھتے ہیں شایان بولتا ہے سوئے ہوئے رمیز یار آ ج تیرے چہرے پر بڑی رونق آ ئی ہوئی ہے یہ رونق تیرے چہرے پر صبح تو نہیں تھی جب ہم سب گپ شپ لگا رہے تھے لیکن سماب میڈم سے ملنے کے بعد رمیز صاحب کے چہرے پر رونق بحال ہو گئی ارے سب سنو یار رمیز کے چہرے کی خوبصورتی کا راز سماب اور صرف سماب ، سارے دوست کھل کر ہنسنے لگے رمیز نے کہا یار شایان تیرا بکواس نہیں ختم ہو گا ایسی کوئی بات نہیں ہے سماب سے صرف میں نے نائمہ کا پوچھا کہ وہ آ ج اکیلی کیوں کھڑی ہے اس کی دوست نائمہ کہاں ہے لیکن تم لوگ تو یار چھوٹی سی بات کا پتنگر بنا لیتے ہو

چلو یار چائے پیو آ ج میں نے اپنے پیسوں کی چائے منگوائی ہے سارے چائے پینے لگ پڑتے ہیں شایان تھوڑا بے تکلف دوست ہے اور جھٹ سے رمیز کو بولتا ہے ویسے تیری نکھرے والی پائل کا کیا حال ہوگا جب اسے پتہ چلے گا کہ تو ایک مڈل کلاس لڑکی سماب میں دلچسپی لیتا ہے وہ تو پاگل ہے تیرے عشق میں ، ارے کچھ نہیں ہو گا اس کا فلرٹ کہے گی ، اوہ ہو تو پائل کو فلرٹ کہہ رہا ہے کیا خود تو کم فلرٹ ہے ہر تیسرے دن تیری کسی نئی لڑکی سے دوستی ہوئی ہوتی ہے شایان کے چپ ہونے کے بعد سمند بولتا ہے یار شایان کیا کہہ رہے ہو اب رمیز سماب کی نظر میں اچھا دیکھنے کے لیئے سب لڑکیوں سے دوستی نہیں کرے گا بلکہ ان کے پاس سے گزر جائے گا رمیز چائے کی پیالی میز پر رکھتے ہوئے اپنے دوستوں کو کہتاہے چل کمینوں چپ ہو جاؤ بس جگہ دیکھتے نہیں ہو کہ شروع ہو جاتے ہو سارے دوست خاموش ہو کر کنٹین کا بل اداکر کے وہاں سے نکل پڑتے ہیں

ابھی دروازے کے پاس ہوتے ہیں کہ آ واز آ تی ہے ہیلو شایان کیسے ہو وہ تمہارا دوست رمیز نظر نہیں آ رہا ہے کہاں ہے شایان کہتاہے رمیز وہ ہمارے پیچھے ادھر ہی آ رہا ہے وہ دیکھو پائل شاید راستےمیں کسی میڈم سے ہیلو ہائی کر رہا ہے سمند ہنسں کرلیتا ہے ویسے شایان ہمارے راستے میں تو کبھی ایسی میڈم نہیں آئی ورنہ ہم بھی ہیلوہائی کرلیتے شایان کہتا ہے سمند میرے دوست رمیز جیسی قسمت ہماری کہاں ، پائل کھڑی دونوں کی باتیں سن رہی ہوتی ہے شایان بولتا ہے پائل کبھی ہمارا حال بھی پوچھ لیا کرو

پائل کہتی ہے رمیز یار یہ تمہارے کیسے دوست ہیں پرایک پر لائن مارتے رہتے ہیں رمیز کہتا ہے ہاں میں بھی ان کے ساتھ گزارا کر رہا ہوں یہ ہے ہی ایسے ، پائل پوچھتی ہے تم اس لڑکی کو کیا بتا رہے تھے رمیز پوچھتا ہے کسکو وہ جس سے ابھی باتیں کر رہے تھے رمیز کہتا ہے ہاں وہ لڑکی بچاری مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ کیا آپ مجھے اپنے نوٹس دیں گے شایان یکدم بولتا ہے یہ آ ج کل تو لڑکیوں کو بڑے نوٹس دے رہا ہے واہ بھئی واہ لائق بچے جا اپنی پائل کے ساتھ ورنہ دوسری کے لیکچر کا وقت ختم ہونے والا ہے وہ دیکھ لے گی اور پھنس جائے گا پائل کہتی ہے کیا مطلب ہے رمیز ، شایان کی باتوں کا ، رمیز کہتا ہے اس کی باتوں کا کچھ مطلب نہیں ویسے یہ میرے دوست مجھے کسی دن پھنسوا کر چھوڑیں گے اور رمیز یہ کہہ کر پائل کے ساتھ چل پڑتا ہے

پائل کہتی ہے تمہیں پتہ ہے رمیز کل کا دن میرے لیئے بڑا اسپیشل ہے رمیز کہتا ہے وہ کیسے کل میری سالگرہ ہے اور تمہیں پتہ ہے اس بار میری سالگرہ پر ڈیڈی مجھے برینڈ نیو کار گفٹ کریں گے رمیز کیسا ہے کونسے ماڈل کی ، پائل کہتی ہے جو کار تمہارے بھائی نے تمہیں لے کر دی ہوئی ہے بالکل ویسی ہی ہے ڈیڈی نے مجھے دو دن پہلے واٹس ایپ ویڈیو بھیجی پوری کار کی اندر باہر کی ساری ویڈیو جیسے کار کی سیٹ کلر کیسا ہے کار کلر کیسا ہے رمیز پائل کو خاموش کروانے کے لیئے پائل اپنی سالگرہ کل کہاں مناؤ گی پائل نے کہا گھر میں مناؤ گی صرف تم میں اور ڈیڈی ہوں گے رمیز کے دماغ میں ایک خیال آ یا کہ سماب سے اکیلے میں ملنے کا یہ اچھا موقعہ ہو گا اس نے پائل

جاری ھے،،،،,,,

ناول کی اگلی قسط روزانہ جاری کی جائے گی

So stay connected with us and if you have any questions or queries related to this urdu novel fikar then please keep in touch with us by email or through live chat , if you like this one episode of urdu novel fikar then continue reading all excited episodes , stay with us and don’t forget to give us your valuable feedback , as it will be a nice gift of appreciation from you to us , (2)

Next Episode coming soon,

urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar urdu novel fikar

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *